ابنا: سعودي عرب کے الشرقيہ صوبے کے باشندوں نے قطيف شہر ميں جمعہ کو ايک بڑا مظاہرہ کرکے حکومتي پاليسيوں کي مذمت کي اور سياسي قيديوں کي فوري رہائي کا مطالبہ کيا -
ايمنسٹي انٹرنيشنل کے مطابق گذشتہ برس مارچ کے مہينے سے سعودي عرب ميں ہونےوالے مظاہروں کے دوران اب تک سيکڑوں مظاہرين کو گرفتار کيا جاچکا ہے سعودي عرب ميں انساني حقوق اور سماجي امور کے لئے کام کرنےوالے کارکنوں کا کہناہے کہ اس وقت آل سعود حکومت کي جيلوں ميں تيس ہزار سياسي قيدي زندگي کے دن کاٹ رہے ہيں جن پر ابھي تک کوئي مقدمہ بھي نہيں چلايا گيا ہے -
قطيف کے مظاہرين نے اپنے تازہ ترين مظاہرے ميں حکومت سے مطالبہ کيا کہ وہ ملک ميں اصلاحات نافذ کرے اور مظاہرين پر حملے کرنےوالوں کو کيفر کردار تک پہنچائے - مظاہرين نے بحريني عوام کے بھي پرامن مظاہروں کي حمايت کا اعلان کرتے ہوئے بحرين سے سعودي عرب کي فوجوں کي فوري واپسي کا مطالبہ کيا -
دوسري طرف اقوام متحدہ نے سعودي عرب ميں پھانسي کي سزاؤں کي تعداد ميں تيزي سے ہورہے اضافے اور سياسي قيديوں کو دي جانےوالي ايذاؤں پر اپني گہري تشويش کا اظہار کيا ہے -پريس ٹي وي کے مطابق اقوام متحدہ ميں انساني حقوق کميشن کے ترجمان نے ايک پريس کانفرنس ميں کہاکہ سن دوہزار گيارہ ميں جس بڑے پيمانے پر سعودي عرب ميں لوگوں کو پھانسي کي سزائيں سنائي گئي ہيں اس پر ہميں سخت تشويش ہے.
.....
/169